
قائدِ ملتِ سلفیہ، امیرِ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ نے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کے تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی، پراکسی تنازعات اور باہمی محاذ آرائی نہایت تشویش ناک ہیں اور ان سے پوری امت کو نقصان پہنچتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریاست خود کو عالمِ اسلام کے مفادات کا داعی قرار دیتی ہے تو اس کی پالیسیوں میں بھی امت کے اتحاد، امن اور استحکام کا عملی اظہار نظر آنا چاہیے۔ ایسے اقدامات یا پالیسیاں جو مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی، تصادم یا عدم استحکام کو فروغ دیں، امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہیں۔
سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ نے کہا کہ یمن، عراق، لبنان اور شام سمیت مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے لاکھوں مسلمانوں کو متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق تشدد، پراکسی جنگوں اور کشیدگی سے اجتناب کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ مملکتِ سعودی عرب، ریاستِ کویت، جمہوریہ ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کا احترام کیا جانا چاہیے، کیونکہ مسلم دنیا کا امن باہمی تعاون، عدم مداخلت اور اسلامی اخوت کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔